تاریخ اسلام کا گمنام ہیرو جو ایک غلام سے اپنی ذہانت کے بل بوتے پر مصر کا سلطان بن گیا۔ - Lunar Gaze Lunar Gaze: تاریخ اسلام کا گمنام ہیرو جو ایک غلام سے اپنی ذہانت کے بل بوتے پر مصر کا سلطان بن گیا۔
Breaking
Loading...

Responsive Ad Slot

National

History

تاریخ اسلام کا گمنام ہیرو جو ایک غلام سے اپنی ذہانت کے بل بوتے پر مصر کا سلطان بن گیا۔

تاتاری چنگیزی فوج تیزی سے اب بغداد کی طرف بڑھتی شہر کے دروازوں سے اندر گھستی جارہی تھی ، ہلاکو کی طرف سے عام خونریزی کا حکم ہوا قتل و غارت کا بازار گرم ہوتے ہی عورتیں اور بچے سر پر قرآن مجید رکھے واویلا کرتے بھاگنے لگے.. تاتاریوں نے نیزے کی انی پر بچوں کو اچھال دیا ،

May 26, 2020

/ by APP
From Slave to Sultan: Baibars I - The Slave Warrior Who Fought His ...

تاتاری چنگیزی فوج تیزی سے اب بغداد کی طرف بڑھتی شہر کے دروازوں سے اندر گھستی جارہی تھی ، ہلاکو کی طرف سے عام خونریزی کا حکم ہوا قتل و غارت کا بازار گرم ہوتے ہی عورتیں اور بچے سر پر قرآن مجید رکھے واویلا کرتے بھاگنے لگے.. تاتاریوں نے نیزے کی انی پر بچوں کو اچھال دیا ، لاکھوں مسلمان مارے گئے، شاہی کتب خانوں کے علمی ذخائر دجلہ میں بہا دیئے گئے.. حتی کے کتابوں کی سیاہی سے دجلہ کا پانی سیاہ پڑگیا..

ایسے وقت جب مذہب آخری ہچکی لے رہا تھا ‘بیبرس’ میدان میں آیا وہ سلطان بننا نہیں چاہتا تھا وہ کہتا تھا اب مسلمانوں کو سلطان کی نہیں ایک اتالیق کی ضرورت ہے جو مسلمانوں کو چابک مار کر سیدھا کرے بہت کم مدت میں مسلمان بیبرس کا نام سن کر کانپنے لگے، دن کا بیشتر حصہ بیبرس فوجیوں کو عسکری تربیت دینے میں گزارتا جبکہ ان کے آرام کرنے پر عبرتناک سزا دی جاتی تو کسی فوجی کی شجاعت پر خوش ہوکر انعام سے نوازا جاتا..

البتہ اس وقت کے علمائے حق بیبرس سے نالاں سے تھے، بیبرس اپنے دور کا واحد سرپھرا مسلمان تھا جو بیک وقت منگولوں کے خلاف جنگی تیاریاں بھی کررہا تھا اور مسلمان شرپسندوں کے سر بھی کچل رہا تھا..

ہلاکو نے اپنے مقابل بیبرس کی جرات مندانہ کوششیں دیکھ کر ایک دن بیبرس کو خط بھجوایا کہ اے ایک آنکھ والے شیطان! تیری حیات کے دن پورے ہوچکے، حقیر کیڑے کی طرح گھسٹتا ہوا میرے پاس آجا ورنہ تیری آنکھوں کے سامنے تیری کھال کھینچوں گا کیونکہ میری محبوبہ تیری کھال کے بستر پر سونا پسند کرے گی.

بغداد کے بعد مصر کی صورتحال کافی خراب تھی عجیب افراتفری تھی منگولوں نے سب کچھ تہس نہس کرڈالا تھا، ان دنوں بیبرس اپنا سکون کھو بیٹھا تھا کیونکہ وہ تاتاری قوم کے مقابل لڑنے کی مشقیں تو کرواچکا تھا لیکن اس کے نزدیک ہلاکو جیسے دشمن کو للکارنا بچوں کا کھیل نہیں تھا، جب ہی دھیرے دھیرے پیش قدمی کرتے ہوئے بیبرس کی فوج کے سامنے ہلاکو خان کی فوج آن کھڑی ہوئی اور خوش قسمتی سے ہلاکو خان کا سوتیلا بھائی برقائی خان بھی اسلام قبول کرکے اپنی فوج سمیت مسلمانوں کی حمایت میں میدان میں آپہنچا..

کوئی کتنا ہی خونخوار درندہ ہوتے ہوئے کتنی ہی زبردست فوجی قوت رکھتا ہو کبھی نہ کبھی شکست کا منہ بھی دیکھتا ہے حملہ ہوا تین طرف سے ہوا تلواریں چلیں، منجمند دریا گھوڑوں کی ٹاپوں سے ٹوٹ گیا، ہلاکو گھوڑے سے بندھا گرپڑا اور برف پر دور تک گھسٹتا چلا گیا، کمزوری طاری ہوئی تو اسے خیمہ میں لے جایا گیا، دوسری طرف دوقوزہ کو میدان جنگ میں ہانکا جارہا تھا وہ ادھر ادھر بھاگ رہی تھی کہیں جائے پناہ نہیں مل رہی تھی ۔

وہ مسجدوں میں آگ لگانے والی… پیش امام کے جسم کی بوٹیاں کاٹ کر اس کے منہ میں بھرنے والی.. عورتوں کو بیوہ، بچوں کو یتیم اور جوان عورتوں کا سہاگ لوٹنے والی.. اسلامی سلطنتوں کو اجاڑ کر وہاں صلیب نصب کرنے والی.. ہانپ رہی تھی گر رہی تھی سنبھل رہی تھی لیکن کہیں صلیب کا سایہ نہ تھا..

دوسری طرف ہلاکو کو دوقوزہ کے قید ہونے کی خبر ملی تو وہ برسوں کا بیمار نظر آنے لگا…

غم ایسا تھا کہ نقاہت حد سے سوا ہوگئی محبوب کی جدائی کی تاب نہ لاکر روح جسم سے جدا ہوگئی، آنکھیں کھلی کی رہ گئیں، کھلی آنکھوں سے روح قفس عنصری کی طرف پرواز کر گئی..
انتساب: کفر شکن
مصنف محی الدین نواب
اپنی آرا سے آگاہ کیجیے گا۔
شکریہ

No comments

Post a Comment

Don't Miss
LunarGaze © all rights reserved
made with by templateszoo