سنتھیا رچی۔ پاکستان کا فخر - Lunar Gaze Lunar Gaze: سنتھیا رچی۔ پاکستان کا فخر
Breaking
Loading...

Responsive Ad Slot

National

History

سنتھیا رچی۔ پاکستان کا فخر

U.S. freelance producer Ritchie spends Christmas holidays in Sindh ...

سنتھیا رچی۔ پاکستان کا فخر، یہ اس وقت ٹوٹر پر ٹاپ ٹرینڈ چل رہا ہے، اور یہ فخر پاکستان دنیا میں پاکستان کی ریاست کے تشخص کی مٹی پلید کر رہی ہے، مجھے ان پاکستانیوں کی ذھنی حالت پر حیرت، تعجب اور افسوس ہو رہا ہے جو سنتھیا کو فخر پاکستان ثابت کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر "جہاد" کرنے میں مصروف ہیں، قبل اس کے کہ میں مزید کوئی بات کروں یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ میں پیپلز پارٹی کے بدترین ناقدین میں سے ہوں، میں نے زندگی میں ذوالفقار علی بھٹو کی جتنی مخالفت کی شاید ہی کسی اور سیاسی شخصیت کی کی ہو گی، اس لیے خدارا مجھے پیپلزپارٹی کا حامی مت سمجھئے گا، میرا جینا مرنا پاکستان کے لیے ہے اور میں یہ سطور اس لئیے لکھ رہا ہوں کہ سنتھیا رچی پیپلزپارٹی کی آڑ میں پاکستان کو بدنام کر رہی ہیں، سنتھیا کی حمایت یا پھر پیپلزپارٹی کی مخالفت میں پاگل ہوئے پاکستانیو دو منٹ کے لئے میری بات  غور سے پڑھ لو، سمجھ آگئی تو ٹھیک ورنہ جو آپ نے کرنا ہے اس پر میرا اختیار نہیں،

ذرا تصور کریں کہ آپ دہلی میں ہیں اور ایک کٹر پاکستان مخالف انتہاپسند ہندو آپ کو طعنہ مارتا ہے کہ آپ پاکستانی تو ایسے ملک کے باشندے ہو جس کا وزیر داخلہ ملک آئی مہمان خواتین کی عصمت دری کرتا ہے، آپ اس کا کیا جواب دیں گے؟ لندن میں کوئی گورا آپ کو کہتا ہے کہ تم پاکستانی ایسی گندی قوم ہو کہ جس کے ایوان صدر میں خواتین کے ساتھ دست درازی کی جاتی ہے تو کیا آپ کو شرمندگی نہیں ہوگی؟ کل نیویارک میں کوئی پاکستانیوں پر آوازہ کستا ہے کہ پاکستانی ایسی گندی قوم ہیں جن کا وزیراعظم ملک میں آئی خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے تو آپ کی کیا حالت ہو گی؟ کیا آپ یہ کہہ کر جان چھڑا لیں گے کہ وہ پیپلز پارٹی کے رہنما تھے؟ کیا دنیا آپ سے یہ پوچھنے میں حق بجانب نہیں ہو گی کہ ایسیے لیڈروں کو ووٹ دینے والی پاکستانی قوم کی اخلاقی حالت کیا ہو گی؟... خدا کے لیے بریک لگا کر سوچیں کہ سنتھیا رچی نے عبدالرحمن ملک، مخدوم شہاب الدین اور یوسف رضا گیلانی پر جو الزامات لگائے ہیں کیا وہ پاکستان کی ریاست کو عالمی سطح پر کٹہرے میں کھرا کرنے کے مترادف نہیں؟ کوئی اکیلی سیاح خاتون کیوں پاکستان آنا چاہے گی جب اسے اس بات کا پتہ چلے گا کہ سیاحوں کو ویزے دینے کا انچارج وزیر غیر ملکی خواتین کی عصمت دری کرتا ہے.. سنتھیا نے  پیپلز پارٹی کی آڑ میں پاکستان کی مٹی پلید کر کے رکھ دی ہے، اس سے پہلے ایک اور امریکی صحافی کرسٹین فیئر یہاں آئی تھی، یہاں فوج کی اعلیٰ ترین قیادت تک اسے رسائی دی گئی، سب سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھی خاتون ہے پاکستان اور افواج پاکستان کا بہت بہتر امیج دنیا کے سامنے پیش کرے گی، کیونکہ اس نے اپنا اعتماد بہتر کرنے کے لیے پاکستان کے حق میں بہت لکھا، اور بعد میں افواج پاکستان کے خلاف کتاب لکھ ماری، سنتھیا رچی نے پہلے پاکستان کی تعریفیں کر کر کے اپنی ایک ساکھ بنائی اور اب دنیا کو پاکستان کی یہ تصویر دکھا رہی ہے کہ پاکستانی حکمران غیر ملکی عورتوں کی عصمت دری کرتے ہیں،

رحمن ملک پر دس سال بعد ریپ کا الزام بیہودگی کی انتہا ہے، سنتھیا رچی سے کوئی پوچھے کہ دس سال کیوں چپ رہی؟ اسے کون سا خطرہ تھا کہ وہ بولی نہیں؟

اور میرے بہت ہی بھولے پکے مسلمان قسم کے پاکستانیو یاد رکھنا اگر سنتھیا کے ریپ کے الزام کو آپ نے آگے پھیلایا تو آپ بہتان کے مرتکب ہوں گے، اپنے ایک مسلمان بھائی کی کردار کشی کے مرتکب قرار پائیں گے، اور یہ بات بھی زھن میں رکھیں کہ سنتھیا رچی جس معاشرے سے تعلق رکھتی ہیں وہاں بیوی کی آمادگی کے بغیر اگر شوہر اس سے ہمبستری کرے تو وہ بھی ریپ کہلاتا ہے، وہاں ایک لڑکی بغیر کسی انکار اور مزاحمت کے کسی کے ساتھ سو لے لیکن بعد میں یہ کہہ دے کہ وہ کسی دباؤ میں تھی یا کسی خوف کا شکار تھی تو یہ بھی ریپ کہلائے گا،..رحمن ملک، یوسف رضا گیلانی یا مخدوم شہاب الدین میں بہت خامیاں ہوں گی مگر وہ مسلمان ہیں اور ہمیں ان کے بارے میں اس طرح کے الزامات کو بغیر پرکھے محض مفروضوں کی بنیاد پر تسلیم کر کے اپنی آخرت نہیں گنوانی چاہیے،

سنتھیا سے کوئی پوچھے کہ وہ کن رازوں کے حصول کے لیے اس وقت کے وزیر داخلہ کی خلوت میں گئی تھی،؟ وہ 
ایوان صدر کس مقصد کے لیے موجود تھی؟

اور اگر پی ٹی آئی والے یا کوئی اور یہ سمجھتا ہے کہ سنتھیا نے صرف پیپلز پارٹی کو بدنام کیا ہے تو یاد رکھیں یہ آپ کی سب سے بڑی بھول ہو گی، کرسٹین فیئر کی طرح یہ بھی سب کے پول کھولے گی، مجھے میرے دوست اختر عباس کا یہ تبصرہ رہ رہ کر یاد آریا ہے کہ عربوں کو. تقسیم کرنے کے لیے لارنس آف عریبیہ جیسا قابل بندہ بھیجا گیا جبکہ ہم پاکستانیوں کو اتنا کم تر سمبھا گیا کہ ہمیں لڑانے کے لیے دو ٹکے کی چھوکری بھیجی گئی، آج جس طرح سنتھیا کی حمایت اور مخالفت میں پاکستانیوں کو آپس میں دست بہ گریبان دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے... ہم. تماش بین قوم بن چکے ہیں.... ملک کا تماشا بنا کر مزے سے دیکھ رہے ہیں، خدا را پاکستانی بن کر سوچیں اور اس رچی والے فریب سے نکلیں، اس خاتون نے ہمیں لڑا کر چلے جانا ہے لیکن جو لوگ اسے فخر پاکستان بنا کر پیش کر رہے ہیں وہ شرمندگی سے اپنی انگلیاں چبائیں گے، اور ہمیشہ یہ چاہیں گے کہ ان کے اس کارنامے کا علم ان کی اولاد کو نہ ہونے پائے کہ اولاد کیا سوچے گی کہ ہمارے ابا جان ایک گوری کے اشاروں پر ناچتے رہے اور پاکستان کو ریپسٹ سٹیٹ ثابت کرنے میں ایک غیر ملکی کی مدد کرنے رہے

از قلم عبداللہ خان

No comments

Post a Comment

Don't Miss
LunarGaze © all rights reserved
made with by templateszoo