جب ہم خلافت کے غلام تھے - Lunar Gaze Lunar Gaze: جب ہم خلافت کے غلام تھے
Breaking
Loading...

Responsive Ad Slot

National

History

جب ہم خلافت کے غلام تھے


 ٹرین کی تصویر جو ترکی سے روانہ ہو کر شام ، اردن ، لبنان ، فلسطین سے ہوتی ہوئی مصر پہنچتی تھی۔ تصویر میں ترکی کے شہری ، عراق کے دیہاتی، شام کے باسی، اردن کے رہائشی، فلسطین کےرہنے والے، حجاز و نجد کے بدو؛ سب ایک چھت کے نیچے خوش و خرم اپنی اپنی منزلوں کی طرف رواں دواں ہیں ۔ نہ پاسپورٹ کی ضرورت نہ ویزا کی حاجت، نہ اقامہ کی فکر نہ مدت سکونت کی جھنجھٹ۔ 

 مصر سے بچوں کے لئے کپڑے لئے، عراق میں اسٹیشن پر کھجور کی سوغات لی، اردن میں رک کر کھانا کھایا، شام سے تحفے تحائف لئے اور ترکی میں جا قیام کیا۔ غلامی کے دن بھی کیا دن تھے بس ایک منہ میں لگام نہیں تھی باقی جدھر کو منہ ہوا چل دیئے۔

شیخ سعدی کو دیکھ لیں شیراز سے چلے شام ، مصر، ترکی ، حجاز ؛ کہاں کہاں نہیں گئے؟ باقی تو چلے رہنے دیں ہمارا ہندوستان تو خلافت کا حصہ نہیں تھا یہاں بھی آکر رہے، بات ہے کرنے والی! ہندوستان یہ سمجھ کر آگئے کہ چلو خلافت کا حصہ نہ سہی آخر مسلمانوں کی حکومت تو ہے۔ 

عجیب غلامی کا دور تھا اتنی بھی تمیز نہیں کہ دوسرے علاقے میں جانے کے لئے شناخت کی ضرورت ہے ،ویزا لگانا پڑتا ہے، لیکن نہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ داتا گنج بخش سے کسی نے نہیں پوچھا کہ ویزا دکھاو؛معین الدین اجمیری سے اقامہ کی تفاصیل نہیں مانگی گئیں؛ امام بخاری ، ایک ایک حدیث کے لئے کتنی سرحدوں کو پار کیا کسی شرطی نےراہ نہیں روکی؛ سپین کے ابن عربی کو شام میں رہنے کو مفت گھر دیا گیا؛ البیرونی ، ابن خلدون ، ابن بطوطہ کو سیاحت کی کھلی آزادی !
حج جیسی جسمانی، روحانی اور مالی وسائل کی محتاج جامع اور عظیم عبادت کے لئے جانا ہو تو ایک بڑی رقم اکٹھی کی جائے ، ویزا ، اقامہ ، پاسپورٹ، ہوٹل ٹرانسپورٹ وغیرہ کا بندوبست ہو تو معلوم ہوتا ہے واقعی ایک عظیم عبادت ہے۔ 

لیکن خلافت کے غلام لوگوں کی آزاد روی تو دیکھو صوم و صیام جیسی عبادات سے دل کو سکون نہ ملا تو چند ساتھی مل کر خانہ خدا پہ حاضری دے آئے، قبلہ دوم کی زیارت بھی کوئی مشکل نہیں تھی، محبت رسول کی تڑپ دل میں بے قرار ہوئی تو در رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عقیدت و محبت کے پھول نچھاور کرنے کے لئے حاضر ہوجاتے۔ 

اتنے سارے مسائل ہوں تو خلافت کا بوجھ کب تک سنبھالا جائے۔ یورپ والے بھی تواسے مرد بیمار قرار دے رہے تھے۔ حجاز کا شریف تو مرنے مارنے پر تل گیا۔

آخر ایک ترک نے خود قدم بڑھایا اور خلافت کی قبا کو تار تار کردیا اور سب کو 
آزاد کردیا۔

No comments

Post a Comment

Don't Miss
LunarGaze © all rights reserved
made with by templateszoo